عمان
شام
شام کا سفر: عمان کے شہریوں کے لیے ویزا
داخلے کی شرائط
عمان کے شہریوں کو شام کا ویزا وہاں پہنچنے پر ملتا ہے۔
- درخواست کہاں دیں
- پیشگی کارروائی ضروری نہیں
جانچ کی تاریخ: 31 اکتوبر 2026 · Passport Index
شام کے شہری: عمان کا سفر
شام
عمان ای ویزا شام کے شہریوں کے لیے عمان کا ویزا
شام کے سفر کے بارے میں ہدایات
- امریکی محکمہ خارجہ درجہ 4: سفر نہ کریں
- برطانوی وزارتِ خارجہ (FCDO) اس ملک کا سفر بالکل نہ کریں
- جرمن وزارتِ خارجہ پورے ملک کے لیے سفری انتباہ
امریکی محکمہ خارجہ، برطانوی وزارتِ خارجہ اور جرمن وزارتِ خارجہ اپنے شہریوں کو اس ملک کے سفر کے بارے میں کیا ہدایت کرتے ہیں، ہر ایک اپنے الفاظ میں۔
عمان سے شام جانے والوں کے لیے وزارتِ خارجہ کے جائزوں کا موازنہ مفید ہے: امریکی محکمہ خارجہ نے شام کو درجہ 4 («سفر نہ کریں») میں رکھا ہے (بتاریخ 22 اکتوبر 2026)؛ برطانوی وزارتِ خارجہ (FCDO) شام کا سفر بالکل نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے (بتاریخ 27 اکتوبر 2026)؛ جرمن وزارتِ خارجہ نے شام کے سفر کے بارے میں باقاعدہ سفری انتباہ جاری کیا ہے (بتاریخ 29 اکتوبر 2026)۔
جاننے کی باتیں
عمان کے شہری شام میں کتنی مدت رہ سکتے ہیں
ڈیٹا میں شام میں عمان کے شہریوں کے قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت درج نہیں؛ یہ مدت داخلے کے وقت طے ہوتی ہے۔
آمد پر شام کا ویزا
عمان کے شہری شام کا ویزا سرحد پر لیتے ہیں؛ بہتر ہے کہ پاسپورٹ، ویزا فیس اور وہ دستاویزات ساتھ ہوں جو مانگی جا سکتی ہیں، جیسے واپسی کا ٹکٹ۔
عمان کے شہریوں کے لیے شام کے ہمسایہ ممالک
عمان کے شہری اردن، ترکی اور لبنان کا سفر ویزا کے بغیر کرتے ہیں۔
شام کے شہری: عمان کا سفر
شام کے شہریوں کا عمان میں داخلہ ای ویزا پر ہوتا ہے، جس کی درخواست سفر سے پہلے آن لائن دی جاتی ہے۔
عام سوالات
کیا عمان کے شہریوں کے لیے شام کا ویزا ضروری ہے؟
عمان کے شہریوں کو شام کا ویزا وہاں پہنچنے پر ملتا ہے۔
کیا شام کے شہریوں کے لیے عمان کا ویزا ضروری ہے؟
شام کے شہریوں کا عمان میں داخلہ ای ویزا پر ہوتا ہے، جس کی درخواست سفر سے پہلے آن لائن دی جاتی ہے۔
کیا عمان کے شہری ویزا کے بغیر شام جا سکتے ہیں؟
نہیں: عمان کے شہریوں کو شام میں داخلے کے لیے آمد پر ویزا درکار ہے۔
ویزا ڈیٹا: Passport Index (ڈیٹا سیٹ passport-index-data)، بتاریخ 31 اکتوبر 2026 داخلے کی شرائط بدلتی رہتی ہیں، کبھی راتوں رات۔ ٹکٹ خریدنے سے پہلے منزل کے ملک کے سفارت خانے یا سرکاری پورٹل سے تصدیق کر لیں۔